سنا ہے نیا سال پھر آرہا ہے



سنا ہے نیا سال پھر آرہا ہے

خوشیاں بھی ہونگی ، بہاریں بھی ہونگی
مگر ہم تو گزرے دسمبر کی سوچوں میں گم ہیں
کے جب تُو میرے پاس تھی
ہاتھ تیرا میرے ہاتھ میں تھا
اور خوشیاں چار سو ہمارے ساتھ تھیں
مگر اب اکیلے تمہیں سوچتے ہیں
یہی خوف دامن سے لپٹا ہوا ہے
کے ایسا نا ہو اس برس بھی دسمبر
تمھارے بنا ہی کہیں بیت جائے
دسمبر تو ہر سال آتا رہے گا
مگر تم نا ہوگے تُو کچھ بھی نا ہوگا
سنا ہے نیا سال پھر آرہا ہے

Post a Comment

0 Comments